ٹوٹنے پہ کانچ کے کنارے رہ جاتے
ڈوبتوں کو تنکوں کے سہارے رہ جاتے
مجھ کو تو آنے کی کچھ امید تو دیتا
جھوٹے دھلاسے سہی تمھارے رہ جاتے
پڑتی جو ہم کو ذرا سی آس بھی تیری
ڈھونڈتے یہ نین کچھ ہمارے رہ جاتے
بنتی لکیروں میں کچھ بھی شکل جو تیری
کھوجتے ہی ہاتھ ہم بے چارے رہ جاتے
سانس سبھی زندگی کے ختم ہو جاتے
ہوتے جو تجھ سے جڑے وہ سارے رہ جاتے
وقت ء آخر یہ آنکھیں پھوڑ ہی جاتا
آنکھ میں تیرے ہی سب نظارے رہ جاتے
ہاتھ سے اپنے زباں بھی کاٹ یہ جاتا
ہم بے زباں ہوتے بس اشارے رہ جاتے
کاش یہ سب کشتیاں تباہ نہ ہوتیں
غرق سمندر یہ ہوں کنارے رہ جاتے
مات سبھی نفرتوں کو ہوتی کہ عاجز
شہر یہ بکتے مگر چبارے رہ جاتے
No comments:
Post a Comment